28فروری 2026 سے شروع ہو کر اپریل کے پہلے ہفتے تک جاری رہنے والی امریکہ اسرائیل ایران جنگ خطے کی حالیہ تاریخ کے ان ہولناک ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے، جہاں مسلسل عسکری تصادم اور فضائی و میزائل حملوں نے ایک وسیع جغرافیائی پٹی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تاریخ کے اوراق میں جب بھی عالمی فتنوں کے محرکات کا جائزہ لیا جائے گا تو صہیونی مفادات کی وہ اندھی اور بے لگام دوڑ ضرور زیرِ بحث آئے گی جس نے اپنی بقا، توسیع اور غلبے کی خاطر ہر حد پار کی، اور اسی تناظر میں ایک نہایت سنگین اور چونکا دینے والا تجزیہ سامنے آتا ہے ایرانی سرزمین خارک اور ابنائے ہرمز پر امریکی زمینی حملہ، ایک ناگزیر تباہی یا محض نفسیاتی جنگ ؟مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی آگ روز بروز بھڑکتی جا رہی ہے اور امریکہ و ایران کے درمیان جاری اس جنگ میں اب ایک نیا اور خطرناک موڑ سامنے آیا ہے جرنلسٹ پینل میں بے لوث، وفادار اور مخلص دوستوں کی کثرت ہے لیکن منافق بالکل بھی نہیں ہیں، یہ سچ ہے اس لیے لکھا ہے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پوری دنیا میں اسرائیل، امریکہ اور اقوام متحدہ کے خلاف احتجاجات پھوٹ پڑے، اسی تناظر میں کراچی، گلگت اور سکردو میں بھی اس برائی کے ٹرائیکا کے خلاف مظاہرے ہوئے و اے ای حکومت نے پھنسے غیرملکی مسافروں کیلئے بڑا اعلان کردیا معروف اصول سب کو معلوم ہے “دشمن کا دوست دشمن ہوتا ہے” اسی منطق کے تحت جب ایران کے ازلی حریف اسرائیل اور اس کے اسٹریٹیجک اتحادی امریکہ کے ساتھ بعض خلیجی ممالک نہ صرف قریبی تعلقات استوار کرتے ہیں بلکہ اپنی فضائی، زمینی اور بحری حدود بھی ایران کے خلاف ان طاقتوں کے عسکری استعمال کے لیے مہیا کرتے ہیں تو یہ صورتِ حال محض سفارتی توازن تک محدود نہیں رہتی، 28 فروری 2026 کو مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک ہولناک باب اُس وقت رقم ہوا جب United States اور Israel نے ایران کے خلاف ایک مبینہ مشترکہ فضائی و میزائل کارروائی کی، جسے امریکی محکمۂ دفاع نے Operation Epic Fury اور اسرائیل نے Roaring Lion کا نام دیا۔ اس کارروائی میں F-35 اور B-2 اسٹریٹیجک بمبار طیاروں کے ساتھ ٹوماہاک کروز میزائل اور بنکر بسٹر بم استعمال کیے گئے انجمن فلاح و بہبود انسانیت میرپور کا چیرٹی ڈنر ،فری کڈنی ڈائیلاسز سنٹر کیلئے تاریخی فنڈ ریزنگ اور اجتماعی تجدید عہد میں کس State کا Anti ہوں میں کس اسٹیٹ کا اینٹی ہوں؟ اُس اسٹیٹ کا جس کے لیے میں نے اپنے ہزاروں شہدا کے جنازے کندھوں پر اٹھائے، جس کے پرچم کو میں نے اپنے لہو سے سرخ ہوتے دیکھا اور آج بھی ہزاروں قبروں پر وہ پرچم لہرا رہا ہے، جس کی سرحدوں کی حفاظت میں میرے غازیان گلگت بلتستان نے اپنی جوانیاں قربان کیں؟ میں اُس ریاست کے خلاف کیسے ہو سکتا ہوں

28فروری 2026 سے شروع ہو کر اپریل کے پہلے ہفتے تک جاری رہنے والی امریکہ اسرائیل ایران جنگ خطے کی حالیہ تاریخ کے ان ہولناک ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے، جہاں مسلسل عسکری تصادم اور فضائی و میزائل حملوں نے ایک وسیع جغرافیائی پٹی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا

اسلام آباد ایران-امریکہ مذاکرات: توقعات اور خدشات 28 فروری 2026 سے شروع ہو کر اپریل کے پہلے ہفتے تک جاری رہنے والی امریکہ اسرائیل ایران جنگ خطے کی حالیہ تاریخ کے ان ہولناک ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے، جہاں مزید پڑھیں